After 9/11 it is trendy to blame Islam for all the ills done by few heretics who are even rejected by the mainstream Islam. In reaction the people with little knowledge blame all Muslims as terrorists. This approach is full of prejudice and bias. The term ‘Islamophobia’ is a neologism formed from Islam and -phobia. The compound form Islamo- contains the thematic vowel -o-, and is found in earlier coinages such as Islamo-Christian from the 19th century. As opposed to being a psychological or individualistic phobia, according to associate professor of religion Peter Gottschalk, “Islamophobia” connotes a social anxiety about Islam and Muslims. A number of individuals and organizations have made attempts to define the concept. Kofi Annan told a UN conference on Islamophobia in 2004: “When the world is compelled to coin a new term to take account of increasingly widespread bigotry, that is a sad and troubling development. Such is the case with Islamophobia.  

Islamophobia thus is  prejudice against, hatred or fear of Islam or Muslims. The term seems to date back to the late 1980s, but came into common usage after the September 11, 2001 attacks in the United States to refer to types of political dialogue that appeared prejudicially resistant to pro-Islamic argument. In 1997, the British Runnymede Trust defined Islamophobia as the “dread or hatred of Islam and therefore, to the fear and dislike of all Muslims,” stating that it also refers to the practice of discriminating against Muslims by excluding them from the economic, social, and public life of the nation. It includes the perception that Islam has no values in common with other cultures, is inferior to the West and is a violent political ideology rather than a religion. Professor Anne Sophie Roald writes that steps were taken toward official acceptance of the term in January 2001 at the “Stockholm International Forum on Combating Intolerance”, where Islamophobia was recognized as a form of intolerance alongside Xenophobia and Antisemitism.[Wikipedia].

The questions raised by people/ groups with anti Islam bias have been answered here. This is part of “Peace Forum Network”. It is non profit e-Forum, for ethical and spiritual peace, to remove misconceptions resulting in Islamophobia, through conceptual insight to Islam, Christianity and Judaism in the light of Holy Scriptures and prevalent environments.  

This blog managed by Aftab Khan contains over 60 pages with drop-down menu at top, to provide answers to the Anti-Islam questions, They are grouped in 20 categories and 80 tags. These pages are also visible as hierarchy in the side bar. Over 50 ‘Posts’ provide additional information on contemporary issues. Use of ‘Search’ widget s highly recommended.

Explore more through:

  1. Islamophobia- Threat to World Peace 
  2.  Site Index:
http://islam4humanite.blogspot .com/2015/03/non-muslims-in-islamic-society.html 
https://rehmat1. com/2012/03/29/splcs-top-10-islamophobes/
Muslim Americans: No Signs of Growth in Alienation or Support for Extremism

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

اسلاموفوبیا (اسلام ہراسی) لفظ ’اسلام‘ اور یونانی لفظ ’’فوبیا‘‘ (یعنی ڈر جانا) کا مجموعہ ہے۔ اس سے غیر مسلم ’ اسلامی تہذیب سے ڈرنا‘ اور ’ نسلیت مسلم گروہ سے ڈرنا ‘ مطلب لیتے ہیں۔ اکثر غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بڑھکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کا خوف داخل ہوتا ہے اس کو اسلاموفوبیا کہا جاتا ہے۔

اسلامو فوبیا یعنی اسلام سے دشمنی جس کی انگریزی (Islamophobia) ہے یا اسلام کا خوف۔ یہ نسبتا ایک جدید لفظ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے ۔ جس کا مفہوم بے جا طرفداری ، نسلی امتیاز اور لڑائی کی آگ بھڑکانا طئے کیا گیا ہے ۔

بہت سارے لوگوں نے اس کی شناخت یہ بھی کرائی ہے کہ یہ لفظ مسلمان یا پھر ان کی شدت پسندیکے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔اس اصطلاح کا استعمال 1976 سے آغاز ہوا لیکن بیسویں صدی کی اسی اور نوے کے ابتدائی دہائیوں میں اس کا استعمال بہت ہی کم رہا ۔ 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد کثرت سے اس لفظ کا استعمال ہوا۔

انگریزی زبان میں مستعمل یہ لفظ دنیا کی بیشتر زبانوں میں اسلام سے خوف و دہشت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف اس لفظ کی ایجاد کی 1987ء سے ہوتی ہے ۔ جبکہ 1997 ء میں اس اصطلاح کی تعریف کرنے کی کوشش کی گئی جب برطانوی رائٹر رونیمیڈ ٹروسٹ نے” Islamophobia: A Challenge for Us All” کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں اس لفظ کی تعریف بیان کی کہ اسلامو فوبیا یعنی اسلام سے بے پناہ خوف اور نتیجتا ایک ایسا ڈر جو کہ لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کو جنم دیتا ہے اور فرانسیسی مصنفین کے نزدیک اس لفظ کا استعمال سب سے پہلے مالیہ ایمیلی نے “ثقافت اور وحشیت” کے عنوان پر مقالہ میں کیا جس کو 1994 ء میں فرانس کے ایک اخبار لیمنڈا نے شائع کیا ۔ جس میں اس نے اسلامو فوبیا کی صنف رواں کے تعلق سے بیان کیا ۔اور 1998 ء میں صہیب بن الشیخ نے اپنی کتابMarianne et le Prophète(ص:171)میں اس لفظ کو ایک باب کے عنوان کے طور پر لیا ۔عالمی پیمانہ پر اس لفظ کا استعمال خوب ہوا خصوصا 11 ستمر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد روایت پسند اسلامی جماعتوں کی طرف سے رد عمل کے طور پر اس لفظ کو خوب فروغ دیا گیا ۔

کچھ اسلامی جماعتیں خصوصا جہادی اور سلف کی طرف دعوت کا کام انجام دینے والی جماعتیں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھوکنے اور لوگوں کو یہ تاثر دلانے کے لئے کہ اسلام کے کیمپ میں رہ کر کی جانے والی کوششوں سے خوف و دہشت کا کوئی واسطہ نہیں اس لفظ کی عمومی اصطلاح کو بدلنے لگیں اور آخر کار ان جماعتوں کو منہ کی کھانی پڑی ۔ گویا ان کے نزدیک ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔

برطانوی رائٹر رونیمیڈ ٹروسٹ کا موقف اس تعلق سے مختلف الآراء ہے ۔جس کا اظہار اس نے اس انداز میں کیا ہے ۔

اسلام ایک متحدہ گوشہ نشین بے حس و حرکت گروہ ہے جو ترقی و تبدیلی جو قبول نہیں کرتا۔
اسلام ایک الگ اور اجنبی دین ہے جس کے اور دیگر ثقافتوں کے درمیان کوئی مشترک اقدار اور مقاصد نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ ان میں اثر ڈال دیتا ہے
اسلام مغرب سے بھی زیادہ گھٹیا دین ہے جو شدت پسند ، بے تکی باتیں کرنے والا اور خواتین کےتئیں سخت ہے۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو سختی اور دشمنی کی صفات سے متصف ہے جو خطرے میں دالنے والا ہے اور دہشت پسندوں کو مضبوط بناتا ہے اور مختلف ثقافتوں سے لڑنے میں طاق ہے۔
اسلام ایک ایسی سیاسی آئیڈیا لوجی ہے جو سیاسی یا جنگی مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔

Humanity, ReligionCultureSciencePeace

 A Project of 

Peace Forum Network

Peace Forum Network Mags

Books, Articles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media

Overall 3 Million visits/hits