European Muslims- Problems & Opportunities [Urdu] یورپ کے مسلمان : مسائل اور مواقع

  1. Thumbnail<br /><br /><br />
Islamophobia in Europe-Islam and Life
  2. Thumbnail<br /><br /><br />
Islamophobia in Europe-Islam and Life
  3. Thumbnail<br /><br /><br />
An Islamic History of Europe (full documentary)
  4. Thumbnail<br /><br /><br />
When the Moors (Muslims) Ruled Europe:
  5. Thumbnail<br /><br /><br />
The Rise and Fall of Islamic Spain:
  6. Thumbnail<br /><br /><br />
Impact of Islamic Awakening in Europe-Islam & Life

یورپ کے مسلمان : مسائل اور مواقع

عبدالرشید صدیقی*

محتاط اندازوں کے مطابق اس وقت مغربی یورپ میں مسلمانوں کی آبادی ۲۰ ملین (دو کروڑ) ہے۔ اس وقت یورپ میں عیسائیت کے بعد دوسرا بڑا مذہب اسلام ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد یورپ کے مذہبی، سماجی اور سیاسی منظر کا ایک حصہ ہے لیکن بیش تر مغربی ممالک میں ان کی بڑی تعداد کی حیثیت گذشتہ ۶۰سال میں آنے والے تارکینِ وطن کی ہے، اس لیے انھیں زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یورپ میں اسلام کے بارے میں بڑی حد تک لاعلمی پائی جاتی ہے۔ یورپ کے اکثر باشندوں کو دیگر مذاہب کے بارے میں سرسری علم ہے لیکن اس کے باوجود وہ نہ صرف اسلام کے بارے میں اپنی راے دینے سے احتراز نہیں کرتے بلکہ پوری تحدی سے منفی، حتیٰ کہ جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ میڈیا نے اسلام کے خلاف ایک محاذ کھول رکھا ہے اور اس منفی پروپیگنڈے کے زیر اثر وہ اسلام کو ’بنیاد پرستی‘، ’انتہا پسندی‘ یا اب ’دہشت گردی‘ کے ہم معنیٰ سمجھنے لگے ہیں۔ ان میں چند ہی افراد نے اسلام کا معروضی یا بھر پور مطالعہ کیا ہے۔ ان کے مآخذ معتبر نہیں ہیں۔ اکثریت کا اسلام کے بارے میں راے کا دار و مدار متعصب مبلغوں، سیاست دانوں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے پروگراموں پر ہے یا پھر ان کی راے متعصب، تنگ نظر مطبوعات سے متاثر ہوتی ہے۔ اسلام کے بارے میں کچھ مآخذ یقیناًقابل اعتبار ہیں لیکن ان کا استعمال ہی نہیں کیا جاتا ہے۔ آج اس امر کی ضرورت ہے کہ مستند معلومات فراہم کی جائیں اور اس پر گفت و شنید ہو۔ قابل اعتماد معلومات کی اہمیت اور افادیت سے انکار ممکن نہیں۔

 مغرب میں مقیم مسلمانوں کے مسائل

یورپ میں مسلمانوں کو متعدد مسائل کا سامنا ہے اور ان کے حل کے لیے منظم کوششوں اور واضح لائحۂ عمل کی ضرورت ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم اپنے ہدف حاصل کرسکتے ہیں۔
lہمیں اس حقیقت کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ امریکا میں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے افسوس ناک واقعے کے بعد دہشت گردی کے جو دیگر واقعات ۷جولائی۲۰۰۵ء کو لندن میں اور پھر میڈرڈ، اسپین اور دیگر مقامات پر رونما ہوئے، ان کے باعث یورپ میں مقیم مسلمانوں کے تحفظ اور مسلمانوں کے متعلق خدشات اور مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ہمارے غیر مسلم پڑوسیوں کے دل و دماغ میں بے اعتمادی اور مخالفت پیدا کرنے والے متعدد دیگر واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ اس کا ثبوت You Govجائزے کے یہ اعداد و شمار ہیں جو انگلستان میں راے عامہ کے آئینہ دار ہیں:m ۵۸فی صد افراد کے مطابق اسلام کا تعلق انتہا پسندی سے ہے m۵۰فی صد افراد کے مطابق اسلام کا تعلق دہشت گردی سے ہے mصرف ۱۳ فی صد افراد کی راے میں اسلام کا تعلق امن سے ہے mصرف ۶ فی صد افراد کی راے میں اسلام کا تعلق انصاف سے ہےm۶۹فی صد افراد کی راے میں اسلام عورتوں پر ظلم کرنے کی ہمت افزائی کرتا ہے۔
انگلستان کی مذکورہ بالا صورت حال کم و بیش دیگر یورپی ممالک کی بھی عکاس ہے۔ اس کے پیش نظر ہمیں اسلاموفوبیا (اسلام کے خلاف نفرت)، میڈیا میں اسلام کے منفی تصور اور اسلام کو انتہاپسندی اور عورتوں پر ظلم سے غلط طور پر منسلک کرنے جیسے مسائل پر توجہ کرنا چاہیے۔
lپورے یورپ میں دائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں کا آج کل عروج ہے۔ اسلام کے خلاف ان کی دشمنی کوئی راز نہیں۔ اس کا اظہار ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت، ہالینڈ میں قرآن مجید کے خلاف فلم کی تیاری اور انگلستان کے متعدد شہروں میں انگلش ڈیفنس لیگ کے جلوسوں سے ہوتا ہے۔ غرضیکہ یورپ کے مسلمان نسل پرستی، تعصب اور زندگی کے تمام شعبوں میں ناانصافی کا شکار ہیں۔ یہ مسائل تعلیمی اداروں، ملازمتوں، محلوں اور بستیوں، غرض ہرجگہ موجود ہیں۔
lدیگر تارکینِ وطن کی مانند مسلمان بھی مختلف ممالک سے یورپ آئے اور ان کا مقصد ملازمت یا تعلیمی لیاقت حاصل کرنا تھا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ میں افرادی قوت کی شدید کمی تھی۔ لہٰذا ان یورپی ممالک نے کم تنخواہ پر مزدوروں کی آمد کا خیر مقدم کیا۔ آج چونکہ عالمی پیمانے پر کساد بازاری ہے، ملازمت سے کارکنوں کو برطرف کیا جارہا ہے اور بے روزگاری سنگین سطح پر پہنچ چکی ہے، اس لیے ملازمت کا حصول اور مشکل ہوگیا ہے۔ مقامی آبادی میں یہ تاثر عام ہے کہ تارکینِ وطن (جن میں مسلمان شامل ہیں) نے ان کی ملازمتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ آج متعدد یورپی ممالک میں غیر ملکیوں کے خلاف نفرت عام ہے۔
l ۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۰ء کے عشروں میں جب مسلمان مرد یورپ آئے تو ان کا خیال تھا کہ وہ مختصر قیام کے بعد وطن واپس چلے جائیں گے اور اس قیام کے دوران میں وہ معقول رقم پس انداز کرلیں گے تاکہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کرسکیں۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ اپنے وطن پھر جابسیں گے، لیکن وطن واپسی کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوا۔ صرف چند افراد واپس گئے اور وہ بھی وہاں دوبارہ نہ بس سکے بلکہ واپس آگئے۔ ۱۹۷۰ء کے عشرے سے ان تارکینِ وطن کے بیوی بچوں نے یورپ کا رخ کیا۔ اس کے نتیجے میں دینی تعلیم، اسلام کی ثقافتی اقدار کی منتقلی اور ترویج اور اسلامی تشخص کو محفوظ رکھنے سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی عائلی قوانین، عائلی نظام، اسلامی اسکولوں اور مدارس میں مسلم بچوں کی تعلیم، اسکولوں، ہسپتالوں اور جیلوں میں حلال کھانے کا انتظام اور مسلمانوں کی تدفین کے انتظام سے متعلق سماجی معاملات اور مسائل بھی پیدا ہوئے۔ دیگر مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑا، مثلاً مسلم خواتین کا حجاب اور نقاب کا استعمال۔ اس سے بڑا تنازع کھڑا ہوا اور اس کے نتیجے میں فرانس میں حجاب پر پابندی لگی۔ سوئٹزر لینڈ کی حکومت نے مسجد کے لیے میناروں والی عمارت کو ممنوع قرار دیا۔ اب فرانس کی حکومت سڑکوں پر نماز کی ادایگی کے خلاف قدم اٹھانے والی ہے، جب کہ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مسجد کے اندر اتنی جگہ نہیں ہوتی کہ تمام نمازی اس کی عمارت کے اندر نماز ادا کرسکیں۔
lاسلام کے بارے میں لاعلمی کے نتیجے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جس کے باعث اسلام کا حقیقی پیغام اور اس کی اقدار یورپ کے لوگوں کی نظر سے اوجھل ہوگئی ہیں۔ اس کا ثبوت You Govجائزے کے یہ اعداد شمار ہیں:m۶۰فی صد افراد نے کہا کہ وہ اسلام کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے m۱۷فی صد افراد نے کہا کہ وہ اسلام کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب پیدا کرنے میں بڑا ہاتھ اسلام مخالف میڈیا اور اس کی متعصبانہ رپورٹوں کا ہے۔ مذکورہ بالا جائزے سے یہ حقائق سامنے آئے: m۵۷فی صد افراد کا اسلام سے متعلق معلومات کا ذریعہ ٹی وی ہے m۴۱فی صد افراد کا اسلام سے متعلق معلومات کا ذریعہ اخبارات ہیں۔شریعت، جہاد، حجاب اور دیگر اسلامی اصطلاحات اس حد تک بدنام ہوچکی ہیں کہ ان کے استعمال سے لوگ پرہیز کرتے ہیں۔ اسلام کی تصویر سفاکیت اور وحشیانہ پن سے عبارت ہے۔ اس شدید غلط فہمی کا سد باب کرنا اور حقیقی، مستند اسلامی تعلیمات سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو روشناس کرانا ہمارے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
lمسلم معاشرہ لسانی، قومی اور فرقہ وارانہ یا مسلکی بنیادوں پر منتشر، منقسم اور ایک دوسرے سے دُور ہے۔ مسلمانوں کے اپنے ممالک میں جو مسلکی اور نظریاتی اختلافات تھے، وہی اختلافات یورپ میں مقیم مسلمانوں میں بھی در آئے ہیں۔ اسلام دشمن قوتیں یہ تحقیق نہیں کرتیں کہ ہمارا تعلق اسلام کی کس شاخ یا فرقے سے ہے۔ ان کی مخالفت اسلام سے ہے۔ افسوس کہ ہم باہمی اختلافات میں برسر پیکار ہیں ؂
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں
مزید برآں، مسلم اُمت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب سے نمٹنے کے لیے عقلی اور ذہنی صلاحیتوں سے مالامال ہو۔ اس کے لیے ہمیں غیرمعمولی صبر، حکمت اور دُوراندیشی کی ضرورت ہے۔ مغرب میں اسلام کے خلاف تمام منفی تصورات کی بیخ کنی کے لیے ہمیں سخت جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہم جس معاشرے میں مقیم ہیں اس میں ہم اپنا ایسا مقام بنائیں جس کی مدد سے ہم اپنے خلاف غلط فہمیوں، تعصبات اور شکوک کو دور کریں۔ مغربی معاشرہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان کے حل کے لیے بھی ہمیں کوشاں رہنا چاہیے کیونکہ اب ہم بھی اسی معاشرے کا جزو ہیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
ہمیں مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ بحیثیت مسلمان ہم بلاشبہہ فی الوقت متعدد مسائل سے دوچار ہیں، البتہ ہمارے لیے متعدد امکانات اور مواقع بھی ہیں۔ مسائل سے گھبرانے یا ہمت ہارنے کے بجاے ہمیں ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ سورۂ انشراح میں اﷲ تبارک و تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے:
فَاِِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا oاِِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o(انشراح ۹۴ : ۵۔۶) پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔
اس آیت کریمہ کی تکرار ہمیں یہ اطمینان دلاتی ہے کہ مسائل اور مصائب وقتی ہیں اور بہتر مستقبل ہمارا منتظر ہے۔ بعض مفسرین نے اس نکتے کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ دونوں آیات میں تنگی کے لیے قرآنی لفظ عسر میں تخصیص کے لیے ال کا استعمال ہوا ہے، فراخی کے لیے قرآنی لفظ یسر میں ایسی کوئی تخصیص نہیں۔ بالفاظِ دگر اﷲ تعالیٰ نے ایک پریشانی کے لیے دگنی زیادہ فراخی کا وعدہ فرمایا ہے۔

 اللّٰہ کی کارفرما حکمت

اس امر پر ہم غور کریں کہ اللہ حکیم ہے اور اس کائنات میں رونما ہونے والے تمام واقعات اس کی حکمت پر مبنی ہیں۔ لہٰذا یہ سوال قدرتی ہے کہ حکمت الٰہی نے تاریخ کے اس موڑ پر ہمیں مختلف ممالک سے جمع کرکے یورپ میں کیوں مجتمع کیا؟ اس نکتے کا اعادہ بر محل ہے کہ ہم اس سے قبل بھی یورپ میں مقیم رہے ہیں۔ مسلمانوں نے ۷۰۰ برس تک (۷۱۱ء سے ۱۴۹۲ء تک) اسپین پر حکومت کی۔ اس کے بعد ان کو شکست اور در بدری کا سامنا کرنا پڑا۔ سسلی پر مسلمانوں نے ۲۶۰برس تک (۸۳۱ء سے ۱۰۹۱ء تک) حکومت کی، یہاں بھی انھیں اسپین جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ عثمانی ترک مشرقی یورپ کے حاکم رہے۔ وہ دریاے ڈینوب تک حکمراں تھے اور آسٹریا کے دارالسلطنت ویانا تک پہنچ گئے تھے لیکن پھر انھوں نے پسپائی اختیار کی۔ اب اس صدی میں لاکھوں مسلمانوں نے یورپ کو بطور اپنے وطن اختیار کیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس دور میں ان کی حیثیت فاتح کی نہیں بلکہ تارکینِ وطن کی ہے۔
اس موقع پر ممتاز اسلامی مفکر نجم الدین اربکان (۱۹۲۶ء ۔۲۰۱۱ء) کی ایک تقریر کا حوالہ مناسب رہے گا۔ کئی سال قبل مانچسٹر، برطانیہ میں ایک مجلس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ اہم نکتہ پیش کیا کہ یورپ میں مسلمانوں کی صورت حال فرعون کے محل میں حضرت موسٰی ؑ کے داخلے سے مشابہ ہے۔ وہ اس وقت ایک ناتواں، بے بس بچے تھے۔ فرعون ہی کے محل میں ان کی پرورش اور تربیت ہوئی۔ انھوں نے حکمراں طبقے کے طور طریقے وہاں سیکھے تاکہ وہ آیندہ قیادت کی ذمہ داری سنبھالیں۔ فی الحال یورپ میں مسلمان بھی کمزور اور پسماندہ ہیں۔ ہمیں یہاں اس لیے لایا گیا ہے تاکہ ہم مغرب کی سائنس اور ٹکنالوجی پر حاوی ہوں اور اسی کے ساتھ ساتھ اسلام کے پیغام کی بھی اشاعت کریں تاکہ اسلام کے معاندین کے دل و دماغ کو مسخر کریں۔ اس نکتے کی تصدیق اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ یورپ میں مسلم نوجوانوں کی نسل اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، ان کو زندگی میں کامیابی کے بہتر مواقع حاصل ہیں، ان کو مسلم ممالک کی بہ نسبت یہاں اظہار خیال اور آزادیِ راے زیادہ میسر ہے۔ ان کے ذہن مسلم ممالک کی بدعنوانیوں سے مسموم نہیں ہیں۔ ان تمام اُمور کے پیش نظر اس کی زیادہ توقع ہے کہ وہ اپنا اسلامی تشخص اور اسلامی کردار قائم رکھیں گے جس سے دنیا کے دیگر ممالک میں غیر مسلموں میں اسلام کی جانب رغبت اور کشش پیدا ہوگی۔

 اسوۂ رسولؐ سے رھنمائی

ہم پر یہ لازم ہے کہ ہم قرآن مجید کے معنیٰ اور پیغام پر غورو فکر کریں اور یہ ہدایت حاصل کریں کہ غیر مسلم معاشرے میں ہم اپنی زندگی کیسے بسر کریں۔ انبیاے کرام ؑ بالعموم غیرمسلم معاشرے میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔ قرآن مجید سے یہ واضح ہے کہ بیش تر انبیا نے دعوت کا آغاز غیرمسلم معاشرے سے کیا۔ بسا اوقات ان کی آواز تنہا تھی۔ ان کے پیغام کا لب لباب تھا: میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں، لہٰذا تم اﷲ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو (الشعراء ۲۶: ۱۰۷۔۱۰۸)۔ یہ کہ میں تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمھارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسا کیا جاسکتا ہے۔ اﷲ کے رسول بنی نوع انسانی کے لیے ہدایتِ الٰہی لاتے رہے ہیں۔ یہ ان کا فرض تھا کہ وہ پیغام الٰہی کی ترسیل بنی نوع انسانی تک کریں، یہی فریضہ خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی تھا۔ حضور اکرمؐ نے اپنا فریضہ کما حقہٗ انجام دیا، اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے اسوۂ مبارک پر عمل پیرا ہوں اور ان کے پیغام کو اپنے اہل خانہ، احباب، پڑوسیوں اور عام لوگوں تک پہنچائیں۔
لوگوں سے باہمی معاملات اور کسی کے ذمے سپرد کسی فریضے کی ادایگی کی ضمن میں امانت کی بہت اہمیت ہے۔ اس سے مراد روز مرہ کی زندگی میں دیانت داری اور اپنی ذمہ داریوں کی ادایگی بھی ہے۔ قرآن کی یہ ہدایت سورۂ بقرہ آیت ۲۸۳ اور سورۂ انفال آیت ۲۷ میں واضح طور پر ملتی ہے۔ امانت سچے اہل ایمان کی امتیازی خصوصیت ہے (المومنون ۲۳: ۸ ، المعارج ۷۰:۳۲)۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اردگرد اور سب کے ساتھ اعتماد کا ماحول پیدا کریں۔ لوگوں کو ہماری دیانت داری اور اخلاص پر بھروسا ہونا چاہیے۔ نبوت کے عطیۂ الٰہی سے قبل بھی حضور اکرمؐ کا لقب امین تھا اور یہ ان کی دیانت داری کے اعتراف کے طور پر تھا۔ یہ امر واقعہ ہے کہ مکہ کے کافروں نے آپؐ کے پیغام کو مسترد کردیا لیکن وہ اپنی امانتیں آپؐ ہی کی تحویل میں دیتے تھے۔
انبیاے کرام ؑ کا اپنی امتوں سے تعلق سر تا سر اخلاص پر مبنی تھا۔ یہ ان کی دلی خواہش تھی کہ لوگوں کی اصلاح ہو اور پوری اُمت کی فلاح و بہبود ہو۔ غرضیکہ نصیحت ایک فعال بامقصد فعل ہے۔ ایک معروف حدیث کے مطابق دین نصیحت ہے (مسلم) ۔ بالفاظ دیگر معاشرے سے ہمارا تعلق اخلاص پر مبنی ہوتا ہے اور ہم ایک دوسرے اور پورے معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ یورپ میں مسلمانوں کو ’دہشت گرد‘ تصور کیا جاتا ہے۔ میزبان آبادی کی راے میں ہم ان کی اقدار اور تہذیب کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ ہمارے بعض نادان دوستوں کا یہ خیال سرتاسر بے وقوفی ہے کہ یورپ میں ہمارے قیام کا مقصد خلافت قائم کرنا اور شریعت نافذ کرنا ہے۔ ہمیں لوگوں کے دل و دماغ مسخر کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ ہمیں انھیں یہ یقین دلانا چاہیے کہ ہم قابل اعتبار ہیں اور یہ کہ ہم ان کی فلاح و بہبود کے لیے مخلص ہیں۔

 اشتعال سے اجتناب

انبیاے کرام ؑ کی ایک امتیازی صفت صبر ہے۔ قرآن مجید میں ان کو صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ صبر سے مراد برداشت، ہمت اور مشکلات سے نبرد آزما ہونا ہے۔ اس میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ انسان پریشانی، ناامیدی اور یاس پر قابو پائے اور اپنے نقطۂ نظر پر مضبوطی سے قائم رہے۔ بالعموم لوگ صبر کو کمزوری اور مجبوری کے مترادف سمجھتے ہیں۔ بے بسی میں انسان بلا شبہہ ان کیفیات سے دوچار ہوتا ہے، البتہ صبر کے حقیقی معنیٰ مسائل پر ہمت اور عزم کے ساتھ قابو پانا ہے۔
قرآن کریم میں جابجا حضوؐر اکرم کو صبر پر کاربند رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بالخصوص اپنے مخالفین کے جواب میں اور کافروں کے انکارِ حق کے جواب میں صبر کرنے اور نماز کا مشورہ دیا گیا ہے (البقرہ ۲:۱۵۳)۔ مکی دور میں انھیں ۱۸ مرتبہ صبر کی نصیحت کی گئی ہے۔ ہمیں بھی اشتعال اور مخالفت کا سامنا صبر سے کرنا چاہیے۔ بحیثیت قوم ہمارا ردّعمل بالعموم جذباتی ہوتا ہے۔ ہمیں مدلل اور منظم انداز میں اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کی مشق کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے مخالفین کے مقابلے میں اس صفت میں ان سے ممتاز ہونا چاہیے۔ قرآن کا مطالبہ ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo(اٰل عمران ۳ : ۲۰۰)، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلے میں پامردی دکھاؤ۔ حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ امید ہے کہ فلاح پاؤ گے۔
اگر ہمیں یہ پختہ یقین ہو کہ ہمارا نقطۂ نظر معاشرے کی فلاح کے لیے ہے تو ہم مخالفت کے باوجود بھی صبر کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھیں گے۔

اولین ترجیح: دعوت
ہدایت قرآنی اور انبیاے کرام ؑ کی روشن مثالوں کے پیش نظر بالخصوص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالی شخصیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری اولین ترجیح اخلاص کے ساتھ اسلام کی ترویج اور تبلیغ ہونا چاہیے۔ اسی کی مدد سے ہم مغرب میں لوگوں کے دل جیت سکتے ہیں۔ صبر اور برداشت کامیابی کی کنجیاں ہیں۔ ہمیں عام آدمی کے ذہن میں اسلام کا تصور بدلنا چاہیے۔ ہمیں اپنے پڑوسیوں کو بھی اس کا قائل کرنا چاہیے۔ دشمنی پھیلانے کے بجاے ہمیں انھیں اسلام سے قریب لانا چاہیے۔ ہمیں اس کا احساس ہونا چاہییے کہ معاشرے میں صاف اور صحیح ذہن کے لوگ ہیں اور ہرشخص اسلام یا اس کی تعلیمات کا مخالف نہیں ہے۔ انھیں بھی ہماری طرح انصاف، امن اور مساوات کی اقدار عزیز ہیں۔ اگر ہم انھیں اسلام قبول کرنے کے لیے قائل نہیں کرسکتے ہیں تو کم از کم انھیں اس حد تک اپنا ہم نوا بنائیں کہ وہ نفرت اور مخالفت کے ماحول میں حضرت ابوطالب کی مانند ہماری مدد کریں۔ اس کے لیے ہمیں بین المذہبی مکالمے میں حصہ لینا چاہیے اور افہام اور تفہیم کو فروغ دینا چاہیے۔ اگر ہم اپنی مہم کا آغاز اس طور پر کریں گے تو ہمیں یقیناًنصرت الٰہی ملے گی اور اس سے اسلام کے خلاف نفرت اور تعصب کم ہوگا۔ اگر اسلام کی حقیقی تعلیمات لوگوں تک پہنچیں گی تو ان کے دل متاثر ہوں گے۔ اس میں کامیابی کے لیے سورۂ نحل کی مندرجہ ذیل آیت کے مطابق ہمیں دعوت کا کام کرنا ہوگا:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (النحل ۱۶: ۱۲۵)، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ۔

مثبت ھم آھنگی

ماضی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب مسلمان بڑی تعداد میں مغرب میں وارد ہوئے تو ابتدا میں انھیں یہاں مقیم ہونے اور بسنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یورپ کا ماحول ان کے لیے نیا اور اجنبی تھا۔ اسی طرح ابتدا میں جب مسلمانوں کا سابقہ بالکل مختلف سماجی اقدار اور تہذیب سے پڑا تو انھیں اپنی اقدار اور تہذیب کے تحفظ کی فکر ہوئی۔ اس ابتدائی رد عمل کے باعث انھیں علیحدہ رہنے، وسیع تر معاشرے سے الگ تھلگ رہنے کی عادت پڑی تاکہ وہ اپنے اسلامی تشخص کو برقرار رکھ سکیں۔یہ رویہ آج بھی موجود ہے۔ اس طرز فکر کے غیر سود مند ہونے کا ہمیں بخوبی علم ہے۔ بقیہ دنیا سے کنارہ کش ہوکر تشخص قائم نہیں رکھا جاسکتا۔ مسلمانوں میں ایک گروہ اس فکر کا علم بردار رہا کہ مغربی اقدار اور ثقافت سے مکمل ہم آہنگی اختیار کی جائے اور اسلامی تعلیمات کو اس مقولے پر عمل کرتے ہوئے خیر باد کہا جائے کہ جیسا دیس ویسا بھیس۔بقول اقبال :
حدیثِ بے خبراں ہے ، تو بازمانہ بساز
زمانہ با تو نہ سازد ، تو بازمانہ ستیز
گویا اقبال کے نزدیک انسان میں موجودہ اور باطل طریقۂ حیات کو تبدیل کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔
مسلم ممالک میں آج بھی ایسے افراد ہیں جو مغرب کی مادی ترقی اور خوشحالی سے حد درجہ مرعوب ہیں۔ ان کی راے میں مغربی طور طریقے اختیار کرکے ہم بھی خوشحالی سے ہم کنار ہوسکتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اندھی نقالی اور ذہنی غلامی سے ان مسلم ممالک کی تقدیر یا حالت نہیں بدل سکتی۔
ہمارے درمیان گذشتہ چند سالوں میں انتہا پسندی کا ایک نیا رجحان پیدا ہوا ہے۔ ایک مختصر گروہ بآواز بلند مغرب سے ٹکراؤ اور آویزش کا حامی ہے۔ یہ مغربی اقدار کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور ان کی جگہ اسلامی اقدار قائم کرنے پر مصر ہے۔ یہ گروہ اس حقیقت سے غافل ہے کہ مغربی اقدار بھی یہودیت اور عیسائیت سے ماخوذ ہیں۔ اس نکتے کی جانب حال میں جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے اشارہ بھی کیا ہے۔ مختصراً تینوں مذاہب کی اقدار بنیادی طور پر دینِ ابراہیم ؑ سے مستعار ہیں اور بعض اقدار ان تینوں مذاہب میں مشترک ہیں۔ اسلامی شریعت میں انتہا پسندی کی مطلق کوئی گنجایش نہیں۔ تمام انبیاے کرامؑ نے امن اور یگانگت کی تعلیم دی ہے۔ انھوں نے معاشرے کی اصلاح اندرونی طور پر کی۔ انھوں نے اپنے نظریات نافذ کرنے کے لیے کبھی تشدد کا سہارا نہیں لیا، بلکہ اس کے برخلاف انھوں نے تشدد کو برداشت کیا اور کبھی انتقام نہیں لیا۔ لہذا انتہا پسندی کا رویہ اختیار کرنا خطرناک بھی ہے اور برعکس نتائج کا حامل بھی۔
اس انتہا پسندی کا جواب کیا ہو؟ اسلام یقیناًاجتماعی معاملات میں لوگوں کی شرکت کا علَم بردار ہے۔ ہمیں اس اسلامی حکم پر کاربند ہونے کا حکم ہے کہ بھلائی کو فروغ دیں اور برائی کو روکیں۔ مغربی تہذیب کا نقد و جائزہ ہماری ذمہ داری ہے۔ اس سے مراد اس کو یکسر مسترد کردینا یا اس میں بالکل ضم ہوجانا نہیں ہے۔ ہمیں مغربی تہذیب کے تمام پہلوؤں کا تنقیدی جائزہ لینا چاہیے، تاکہ ہماری تہذیب سے اس کے مماثل اور مختلف پہلو نکھر کر سامنے آئیں۔ اس کی روشنی میں ہمیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ مغربی تہذیب کے کون سے پہلو پسندیدہ ہیں اور کون سے ناپسندیدہ۔ غرضیکہ ہمیں آزادانہ تنقید کا رویہ اپنانا چاہیے۔ ہمارا ایک مخصوص نظریاتی اور ثقافتی تشخص ہے جس کا مآخذ اﷲ اور اس کے رسولؐ کی ہدایات ہیں۔ اسی ہدایت الٰہی کی بدولت ہم ہمہ وقت اپنے ایمان کو تازہ اور مضبوط رکھتے ہیں۔

 تعلقات عامہ

ان مغربی ممالک میں جہاں جمہوریت رائج ہے اقتدار صرف مرکزی حکومت کے ہاتھوں میں مرکوز نہیں ہوتا۔ یورپین یونین کے قیام کے بعد قانون سازی اصلاً یورپی پارلیمنٹ میں انجام پاتی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کے پس پشت اصل قوت عوام کے منتخب یورپین پارلیمنٹ کے ممبر، متعلقہ ممالک کے ممبر پارلیمنٹ، لوکل کونسلر، میڈیا کے نمایندے، راے عامہ پر اثر انداز ہونے والے گروہ، مرکزی اور مقامی حکومت کے ذمہ داران وغیرہ ہوتے ہیں۔ اقتدار کے مراکز تک اپنے پیغام کی ترسیل کے لیے ہمیں ان گروہوں کو قائل اور متاثر کرنا ہوگا۔ یہ ایک طویل المدتی حکمت عملی ہے، البتہ اس کے خوش گوار نتائج مستقبل میں رونما ہوں گے۔
نئی قیادت کی ضرورت
یورپ میں نئی مسلم قیادت کی ضرورت ہے جو یورپ میں مقیم مسلمانوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہو۔ یہ قیادت مذہبی، مسلکی اور فقہی اختلاف سے بالاتر ہو۔ یہ قیادت نہ صرف مسلمانوں کے بلکہ یورپی معاشرے کے مسائل کے حل پر قادر ہو۔ ہمیں توقع ہے اور ہماری دعا بھی ہے کہ عزم اور حکمت کے ساتھ اس نازک اور مشکل ذمہ داری سے عہدہ برا ہوا جاسکتا ہے۔ اس میں اسلام کے پیغام کو عام کرنے کا جذبہ اور خواہش ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس میں یہ صلاحیت بھی ہو کہ وہ لوگوں کے دل و دماغ میں ایسے جذبات بیدار کرے جس سے وہ اسلام کے پیغام کے لیے اَن تھک کام کریں۔ ان کا مقصد احسان کے درجے پر فائز ہونا ہو، نہ کہ ضابطے کی خانہ پُری۔
مغرب میں مسلمانوں کو درپیش مسائل سے واقفیت کے باعث ہماری یہ کاوش ہونا چاہیے کہ امت مسلمہ متحد ہو۔ فی الحال یہ مسلکی، گروہی، فقہی اختلافات کے باعث منتشر ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ یہ ایک مشکل اور طویل المدتی کام ہے لیکن صبر اور استقلال کے ساتھ اس کا حصول ممکن ہے۔ اگر ہم میں تقویٰ اور اخلاص ہے اور ہمارا مقصد رضاے الٰہی کا حصول اور اُخروی نجات ہے تو یقیناًاپنے وعدے کے مطابق اﷲ تعالیٰ ہمیں نصرت الٰہی سے سرفراز کرے گا:
وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ o(العنکبوت ۲۹: ۶۹)،جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انھیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے اور یقیناًاﷲ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے۔
(یہ اس کلیدی خطاب کا نظرثانی اور اضافہ شدہ متن ہے جو ۲۶۔۲۸ نومبر ۲۰۱۰ء کو یورپین مسلم کونسل کی افتتاحی کانفرنس بمقام بریسیا، اٹلی میں پیش کیا گیا)۔

_______________

*مقالہ نگار اسلامک فاؤنڈیشن لسٹر، برطانیہ میں محقق ہیں

http://tarjumanulquran.org/site/publication_detail/143

The Burden of Perception of Muslims as ‘Others’

The representation of Muslims as the ‘other’ in western media has been central to political debates on society, culture, migration and war, particularly since the events of 9/11.

Furthermore, “the reach of today’s global media conglomerates and the tangled machinations of international politics give the[se] structures of representation […] a fierce power,” Peter Morey and Amina Yaqin argue in Framing Muslims. In their important and thought-provoking book, Morey and Yaqin, both literature scholars in Britain, look at the many ways in which stereotyped images of Muslims are defined, ranging from political rhetoric to popular television series such as 24. The authors also examine dimensions such as the sensational news coverage of honour killings, the subversive wit of the comedian Shazia Mirza and blatant media manipulation by right wing extremists, Muslim or Christian.

Morey and Yaqin point out that Muslim presence in Britain dates back many centuries to trading contacts with the Mediterranean and North Africa. The book comments briefly on the changing relationship between the Christian church and its “competitor” Islam, beginning with seventh century Muslim ascendancy in Europe. The loss of Muslim power in Europe in the 13th century coincided with the European Renaissance, which looked to Europe’s Graeco-Roman past; the once-influential Muslim thinkers such as Averroes (Ibn Rushd) and Avicenna (Ibn Sina) were marginalised. This reinforced concepts employed during the Crusades, that Islam was a “civilisation enemy”.

Furthermore, the prolonged Europe-Ottoman rivalry and Britain’s colonial ascendancy promoted notions of a “backward and irrational orient struggling under the yoke of Islam”.

This rhetoric played on images of ‘oppressed’ Muslim women in need of rescue from male Muslim tyranny, “a trope with tremendous emotional appeal and longevity,” which continues to be employed today. The authors provide a biting critique of medieval sources and “ahistorical” research to discuss contemporary issues, laced with erroneous perceptions of Muslims as a single monolith. These are summed by the all-too-familiar images of the bearded fanatic, the veiled woman and the pseudo-westernised potential terrorist. As a result, acts of violence ranging from New York and London bombings to domestic crimes have come to be regarded as the Muslim reality. This has placed great stress on inter-racial relations.

Framing Muslims points out that British anti-racist movements in the 1970s were inspired by the political activism of “the post-civil-rights movement” in the United States. In Britain however, concepts of “black identity or a black political ethnicity” were confronted by “a second cleavage” — between West Indians and Asians, who were historically and culturally different. This complicated British discourse on multiculturalism. In 1988, The Satanic Verses affair proved the “defining moment for British Muslim identity”: Muslims became a political category perceived to be at odds with the norms of civil society. A decade later, following racist incidents, a British report “Islamophobia: a challenge for us all” explored anti-Muslim prejudice coinciding with Tony Blair’s election and the new slogan, “Cool Britannia”. The era saw films about British Asians such as East is East, Bend it Like Beckham and the television series Goodness Gracious Me. But a “backlash” decrying multiculturalism and asserting ‘Britishness’ and ‘British values’ soon followed. These attitudes were fuelled by 9/11 and 7/7 bombings, Iraq, Afghanistan and the Danish cartoons. While several British channels portrayed Islam positively through films such as Tariq Ramadan’s The Muslim Reformation and Ziauddin Sardar’s Battle for Islam, others continued with sensationalist programmes on “problematic ‘Muslim issues’,” which, coupled with “heavy handed” official attempts to intercept possible “radicalisation,” increased racial tensions.

Framing Muslims details the growth of various Muslim organisations, purporting to be representatives/leaders of British Muslim. Many such groups, including the Muslim Council of Britain, were fostered, wooed, and indeed groomed by the British government, but difficulties arose when they refused to support government policy in the Middle East and Afghanistan. Throughout, Morey and Yaqin refer to the diversity of Muslim life. They explain that in the aftermath of 9/11, Muslims were posed questions about “their conflicting allegiances” between religion and the state — a supposition which ignored the history of nationalist movements in Egypt or South Asia where debates between the secular and non-secular were an intrinsic part of politics. The co-authors assert that politician Baroness Sayeeda Warsi raises valid issues when she suggests that “the idea of representative figures for minority communities essentially contributes to their continued ghettoisation.”

Framing Muslims devotes considerable space to the representation of Muslims in British and American films, ranging from docudramas to thrillers. The excellent, informed critical analysis covers well-known productions such as 24, Dirty War, The Hamburg Cell, Spooks and Yasmin, among others. The discussion highlights the significance of “recurring images” of (troubled or troubling) Muslims in the popular media which “map into dominant political attitudes”. The book deals with the “dialogic process” between western stereotypes and “the Muslim groups’ deployment of these stereotypes in order to re-present themselves” and leads up to the fascinating chapter, “Performing Beyond the Frame: Gender, Comedy and Subversion”. This touches on the hijab issue in France before exploring a new commercial “global Islamic cosmopolitanism” expressed through marketing, including the creation by an enterprising American Muslim couple of “Islamic dolls”. These toys, complete with hijab, jilbab and a huge wardrobe, are promoted as the “Muslim alternative” to the blonde and curvy Barbie doll. As Morey and Yaqin point out, it remains debatable whether hijabi dolls “break out of the frame of stereotyped representation” or “whether the stereo-
type is merely reinforced through the universalising of a female Muslim subject”. The authors also examine the parodic performances of the comedian Shazia Mirza: she wore an austere hijab but subverts western images of subservient Muslim women through her “feisty personality” and “her willingness to squeeze humour out of uncomfortable topics and
confront audience expectations head on”. Although Mirza challenges stereotypes, Framing Muslims suggests that there are inherent contradictions and that “the performer may become trapped by the persona she has created”. Mirza, increasingly burdened by “representing Muslims,” has stopped wearing the hijab.

Framing Muslims draws parallels between the media headlines at the Pastor Terry Jones threat to burn the Quran in the United States and Anjem Choudary’s threat in Britain, to stage a march commemorating Muslim deaths in Afghanistan to disrupt a gathering of mourners for British servicemen. Both Jones and Choudary knew that their statements would receive publicity, and having conveyed their bellicose messages, had no need to carry out their threats.

In conclusion, this invaluable book tackles one of today’s most pressing issues and highlights how the “clash of civilisations” is being played out. The co-authors suggest that it
requires political will to addresses social, political, economic and international issues coupled with the need to listen to a greater diversity of voices, before stereotypes — and the inevitable animosity they generate — can be meaningfully resolved.

“Framing Muslims: Stereotyping and Representation After 9/11” , (IDENTITY POLITICS). By Peter Morey and Amina Yaqin, Harvard University Press. ISBN 978-0-674-04852-2. Reviewed By Muneeza Sham
http://www.dawn.com/2011/11/20/non-fiction-the-burden-of-perception.html

Zionist West verses Islam

Islam bashing has become part of a well organised move in the West. This is nothing new, such acts are spread over the entire history of Islam. The notorious crusades were initiated in by Pope Urban 2nd in 1096 when the Church was losing its hold on Christians, this ploy was used by them to bring the Christians back under the yoke of the Church.  As a reaction to these invasions, a warrior in the person of Sultan Salahuddin Ayubi, a Kurd emerged and fought out these crusades against Islam.Now on 9/11, Bush assumed the role of Pope Urban 2nd and declared it a crusade in his State of the Union address against Islam after the 9/11 event. The magnitude of this false flag has been so intense that its ripples are being felt even now. Its splinter effects have spread across not only the US but Western Europe as well. Read full …. http://goo.gl/6FxaM

“Behead Those Who Convert” Says Hindu Leader Pravin Togadia

VHP international general secretary Pravin Togadia on Monday called for a new Indian Constitution that allows for “anyone who converts Hindus to be beheaded”.

The fiery speech, seconded by right-wing leaders, came towards the conclusion of the three-day Akhil Bhartiya Dharmaprasar Karyakarta Sammelan-2011, held a few yards away from the controversial Pirana dargah on the city’s outskirts, where he stayed during the event.

Workers of the VHP from across the country had gathered here, many of them staying in the dargah premises for the three-day conference, causing a lot of anxiety for the police, Monday being Eid-ul-Azha.

Asaram Bapu’s son Narayan Sai, who also came for the concluding ceremony on Monday, said, “I would suggest that we Hindus should include Buddhists, Sikhs and Jains because their line of thinking is no different from Hindus, except for a few small habits.”

Meanwhile, the Saiyed families residing in Pirana village offered namaaz at Imamshah Bawa Dargah on the occasion of Eid-ul-Azha amid tight police security.

Around 120 families belonging to the Saiyed community reside in Pirana village and consider themselves as descendents of Imamshah Bawa. There is a controversy surrounding the Imamshah Bawa Dargah, whose trust is run by seven members of Satpanthi group, who were originally Kutchhi Patels and converted to this sect, and three members from the Saiyed community.

Related Links @ http://aftabkhan.blog.com

Hajj – Muslims Celebrate Abraham’s Great Success in Trial

“And who forsaketh the religion of Abraham save him who befooleth himself? Verily We chose him in the world, and lo! in the Hereafter he is among the righteous. When his Lord said unto him: Surrender! he said: I have surrendered to the Lord of the Worlds. The same did Abraham enjoin upon his sons, and also Jacob, (saying): O my sons! Lo! Allah hath chosen for you the (true) religion; therefore die not save as men who have surrendered (unto Him). Or were ye present when death came to Jacob, when he said unto his sons: What will ye worship after me? They said: We shall worship thy God, the God of thy fathers, Abraham and Ishmael and Isaac, One God, and unto Him we have surrendered.[Quran:2:130-134]
“And they say: Be Jews or Christians, then ye will be rightly guided. Say (unto them, O Muhammad): Nay, but (we follow) the religion of Abraham, the upright, and he was not of the idolaters. (Muslims): We believe in Allah and that which is revealed unto us and that whichas revealed unto Abraham, and Ishmael, and Isaac, and Jacob, and the tribes, and that which Moses and Jesus received, and that which the Prophets received from their Lord. We make no distinction between any of them, and unto Him we have surrendered”[Quran;2:135-136]
If  you were  Abraham’s children, you  would do  what Abraham did.” (Jesus,  John; 8:39).
 
Every year during Hajj & Eid ul Adha Muslims celebrate the event of great sacrifice, Prophet Abraham (peace be upon him) willingly offered to sacrifice his eldest (then only) son, but God substituted it with ram, Among the three Abrahamic faiths [Islam, Christianity and Judaism] it is Muslims who so devoted celebrate this great event as one of five pillars of Islam in Hajj. 

Prophet Abraham (peace be upon him) was childless, he was granted sons at old age, Ishmael, from his second wife Hager, and later Isaac (Ishaq) from his first wife Sara. According to an Islamic tradition he left Ishmael at Makka while he was older enough. The other tradition narrates that he had to leave the infant Isma’il and his mother at a far off place in desert (Makka). They miraculously survived due to water of spring (Zamzam). Abraham’s faith was so great that later he went to obey God’s com­mand to sacrifice his only son (Ishmael), however at the last minute; God permitted him to substitute a ram. Muslim tradition identifies the son to be sacrificed as Ishmael (Biblical traditions claim, Isaac). Prophet Abraham (peace be upon him) again came to Makka to rebuilt the first house of Allah, Ka’ba with Isma’il as a sign of God’s covenant with them and established the rituals of pilgrimage (Hajj). Allah says: “And when Abraham and Ishmael were raising the foundations of the House, (Abraham prayed): Our Lord! Accept from us (this duty). Lo! Thou, only Thou, art the Hearer, the Knower.”(Qur’an;2:127).A controversy has raged between the followers of the Bible and the adherents of Islam as to which of the sons of Abraham, Ishmael or Isaac was offered as a sacrifice. It is important to note that, a peculiar sanctity was attached to the first-born both of man and of cattle among people right since the time of Adam, it was especially of great importance among the Israelites. God claimed that the first-born males of man and of animals should be consecrated to him, the one as a priest (Exodus;19:22,24), representing the family to which he belonged, and the other to be offered up in sacrifice (Geneis;4:4). The laws concerning this redemption of the first-born of man are recorded in Exodus;13:12-15; 22:29; 34:20; Numbers;3:45; 8:17; 18:16 and Leviticus;12:2,4. Even the first-fruits of the ground were offered unto God just as the first-born of man and animals. Ishmael, without any doubt was first born son of Prophet Abraham  (peace be upon him). The Bible is quite clear in designating the offering: “He said, “Take your son, your only son Isaac, whom you love, and go to the land of Mori’ah, and offer him there as a burnt offering upon one of the mountains of which I shall tell you.”Genesis;22:2.. If at anytime, an offspring of Prophet Abraham  (peace be upon him) can be described as “thine only son: it could only be Ishmael, because for more than thirteen years, he was the only son and seed of Abraham. God Almighty acknowledges Ishmael as the “son and seed” of Abraham in no less than twelve places in the Book of Genesis alone. At no time was Isaac the only son and seed of Abraham. The false pen of the scribe was in the hand of the Hebrews who edited the Books of Moses, as the prophet Jeremiah lament: “How do ye say, We are wise, and the law (the Torah) of the Lord is with us? Lo, certainly in vain made he it; the pen of the scribe is in vain.”(Jeremiah;8:8). When the Hebrews are found to convert an Israelite into an Ishmaelite when no motives are involved, then how much easier for them to change the word “you only son Ishmael” to : your only son Isaac!”

The whole land of Arabia appears (Genesis;10:1-32) to have been inhabited by a variety of tribes of different lineage, Ishmaelites, Arabians, Idumeans, Horites, and Edomites; but at length becoming amalgamated, they came to be known by the general designation of Arabs. The modern nation of Arabs is predominantly Ishmaelite (decedents of Ishmael or Isma’il), their language Arabic, is the most developed and the richest of all the Semitic languages, and is of great value to the student of Hebrew. Isma’il was also a messenger of God (Qur’an;19:54). He willingly offered himself to be sacrificed in obedience to the command of Allah to his father Prophet Abraham (peace be upon him), who was asked to offer the sacrifice of his ‘only son’. Allah accepted the gesture of Abraham and substituted ram instead (Qur’an;37:102-107). Ishmael helped his father Abraham in building the Ka’ba (Qur’an;2:127). He called the people around (Arabia) to prayer and charity. Isma’il became the ancestor of Arabs. Allah says: “We blessed him (Abraham) and Isaac: but of their progeny are (some) that do right, and (some) that obviously do wrong, to their own souls.”(Qur’an;37:113). Once the progeny of Abraham through his second son Isaac deviated from the faith of Abraham, after two and half millennium, God shifted the honor of “Leadership of Mankind” to the decedents of Ishmael by appointing Muhammad (peace be upon him) as His last messenger (610 C.E).

Allah as the Best of Deceivers?

The term ‘khayru al-makireen‘ is first used in verse 3:54 of the Quran:

وَمَكَرُوۡا وَمَكَرَاللّٰهُ ‌ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمَاكِرِيۡنَ‏ ﴿3:54

“And they schemed [against Jesus] and God schemed [against them], but God is the best schemer.”

This is alternately translated as “deceiver” or “plotter”–the translation of “deceiver” is preferred by anti-Muslim elements, whereas “plotter” by Muslim apologists. The more neutral “schemer” is chosen here being appropriate.
The context of this verse can be found in Tafsir Al-Jalalayn, as follows:
God says: And they, the disbelievers among the Children of Israel, schemed, against Jesus, by assigning someone to assassinate him; and God schemed, by casting the likeness of Jesus onto the person who intended to kill him, and so they killed him, while Jesus was raised up into heaven; and God is the best of schemers, most knowledgeable of him [Jesus].
Some killers schemed against Jesus, and so God schemed against the killers to fool them. God made someone else look like Jesus–a willing martyr, by the way–and the killers murdered him instead (don’t worry, he is promised heaven).
So, that is the context in which God “schemed.”
If Osama bin Ladin tried to kill the President of the United States, but the Secret Service used one of the President’s doubles to “deceive” OBL, would there be anything wrong with this? That’s the exact same situation as appears in the Quran.
The term “khayru al-makireen” is repeated in verse 8:30, again in the context of those who tried to assassinate one of God’s prophets, in this case Muhammad (pbuh) himself. The leaders of Mecca planned to assassinate him, “scheming” against him by deciding to do the ugly deed altogether as one so that nobody could assign blame to any one single tribe. This would prevent any possible retaliation. They also planned on killing Muhammad (pbuh) using the cover of darkness.
The Quran says that God “schemed” against these killers, and fooled the killers by making them think Muhammad was in his bed when in fact it was his younger cousin Ali. When the killers found out it was just Ali, they didn’t kill him since he was just an adolescent. In the meantime, Muhammad  (pbuh) slipped away and fled to another city with his life.
So once again, God’s “scheming” involved fooling killers so that they could not murder.
How one could twist this into something negative, it is not understood…but Islamophobes are very adept at twisting things.
One must read ‘The Biblical God As a Deceiver’, by Bassam Zawadi.  Zawadi notes that the Bible contains numerous verses in it where God “deceives.” Once again, for me the interesting thing about it is the level of pure hypocrisy of anti-Muslim Jews and Christians who vilify Islam and the Quran for what is found in their own religion and holy book.
Zawadi points to the following verse of the Bible, for instance:
Jeremiah 4:10 Then I said, “O Sovereign LORD, the people have been deceived by what you said, for you promised peace for Jerusalem. But the sword is held at their throats!”
Of relevance here is the fact that unlike the two Quranic verses–which show God stopping people from killing by deceiving murderers–the Biblical verse in which God deceives involves him tricking a population into thinking they would have “peace” when in fact “the sword is held at their throats!” The Bible says:
4:16 “Tell this to the nations, proclaim it to Jerusalem: ‘A besieging army is coming from a distant land, raising a war cry against the cities of Judah.’”
God deceived so that a “besieging army” could carry out its war of conquest. Similarly, God will delude people in 2 Thessalonians 2:11  “For this reason God sends them a powerful delusion, leading them to believe what is false”  so that Jesus can kill and destroy them.  [Source: http://www.loonwatch.com/2011/08/allah-as-the-best-of-deceivers/ ]

An other falsehood is to try to equate Allah with Satan Quran;4:119 is quoted out of context to support the slander, but the context is self explanatory:

سُوۡرَةُ النِّسَاء
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًاۢ بَعِيۡدًا‏ ﴿۱۱۶﴾  اِنۡ يَّدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰـثًـا‌ ۚ وَاِنۡ يَّدۡعُوۡنَ اِلَّا شَيۡـطٰنًا مَّرِيۡدًا ۙ‏ ﴿۱۱۷﴾  لَّـعَنَهُ اللّٰهُ‌ ۘ وَقَالَ لَاَ تَّخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا ۙ‏ ﴿۱۱۸﴾  وَّلَاُضِلَّـنَّهُمۡ وَلَاُمَنِّيَنَّهُمۡ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَـتِّكُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰهِ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَّخِذِ الشَّيۡطٰنَ وَلِيًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِيۡنًا ؕ‏ ﴿۱۱۹﴾  يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ‌ ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡـطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا‏ ﴿۱۲۰﴾  اُولٰٓٮِٕكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ وَلَا يَجِدُوۡنَ عَنۡهَا مَحِيۡصًا‏ ﴿۱۲۱﴾  

Translation:

“Verily! Allâh forgives not (the sin of) setting up partners (in worship) with Him, but He forgives whom He wills sins other than that, and whoever sets up partners in worship with Allâh, has indeed strayed far away. (116) They (all those who worship others than Allâh) invoke nothing but female deities besides Him (Allâh), and they invoke nothing but Shaitân (Satan), a persistent rebel! (117) Allâh cursed him. And he [Shaitân (Satan)] said: “I will take an appointed portion of your slaves; (118) Verily, I will mislead them, and surely, I will arouse in them false desires; and certainly, I will order them to slit the ears of cattle, and indeed I will order them to change the nature created by Allâh.” And whoever takes Shaitân (Satan) as a Walî (protector or helper) instead of Allâh, has surely suffered a manifest loss.[] (119) He [Shaitan (Satan)] makes promises to them, and arouses in them false desires; and Shaitan’s (Satan) promises are nothing but deceptions. (120) The dwelling of such (people) is Hell, and they will find no way of escape from it. (4:121)

However Bible describes Devil as “the god of this world” in 2 Corinthians 4:4, Other terms identified with Satan include “the prince of this world” in the Book of John 12:31, 14:30; “the prince of the power of the air” also called Meririm, and “the spirit that now worketh in the children of disobedience” in the Book of Ephesians 2:2;

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Question: Can Allah be described as plotting, deceiving and betraying as in the verses (interpretation of the meaning): “they were plotting and Allah too was plotting” [al-Anfaal 8:30]  , “Verily, the hypocrites seek to deceive Allaah, but it is He Who deceives them” [al-Nisa’ 4:142]?.  

Praise be to Allaah. The attributes of Allaah are all attributes of perfection, pointing to the best and most perfect of meanings. Allaah says (interpretation of the meaning):“and for Allah is the highest description. And He is the All-Mighty, the All-Wise” [al-Nahl 16:60]“His is the highest description (i.e. none has the right to be worshipped but He, and there is nothing comparable unto Him) in the heavens and in the earth. And He is the All-Mighty, the All-Wise” [al-Room 30:27]Al-Sa’di said in his Tafseer (commentary) – p. 718, 1065:

The highest description means the most perfect attributes.

Attributes are of three types: 

1 – Attributes of perfection – in which there is no shortcoming whatsoever. These attributes apply to Allaah in absolute terms and are not limited or restricted in any way. Examples of that include His knowledge, power, hearing, seeing, mercy, etc.

2 – Attributes which imply imperfection and shortcomings. These can never be ascribed to Allaah, such as sleeping, being unable, doing wrong or oppressing, betraying, etc.

3 – Attributes which may be perfect or imperfect, depending on the context. These cannot be ascribed to Allaah in absolute terms, and they cannot be denied in the case of Allaah in absolute terms. If the context implies perfection then they can be ascribed to Allaah; if it implies imperfection then they cannot be ascribed to Allaah. Examples include: plotting, deceiving and mocking.

Plotting against, betraying and mocking the enemy are attributes of perfection, because that is indicative of complete knowledge, power and might, and so on.

But plotting against the sincere believers is an attribute of imperfection.

Hence these characteristics are not ascribed to Allah in absolute terms, rather they are mentioned in such a context as to indicate that these are attributes of perfection.

Allah says (interpretation of the meaning):

“Verily, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is He Who deceives them”[al-Nisa’ 4:142]

This is deceiving the hypocrites.

And He says (interpretation of the meaning):

“And (remember) when the disbelievers plotted against you (O Muhammad) to imprison you, or to kill you, or to get you out (from your home, i.e. Makkah); they were plotting and Allaah too was plotting; and Allaah is the Best of those who plot” [al-Anfaal 8:30]

This is a plot against the enemies of Allaah who were plotting against the Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him).

Allaah says of the hypocrites (interpretation of the meaning):

“And when they meet those who believe, they say: ‘We believe,’ but when they are alone with their Shayaateen (devils — polytheists, hypocrites), they say: ‘Truly, we are with you; verily, we were but mocking.’

Allaah mocks at them and gives them increase in their wrong-doing to wander blindly”[al-Baqarah 2:14-15]

This is mocking the hypocrites.

These attributes are to be regarded as indicating perfection in this context. Hence we say that Allaah mocks the hypocrites and deceives them, and that He plots against His enemies, and so on. But it is not permissible to describe Allaah as mocking or deceiving in absolute terms, because that does not indicate perfection.

Shaykh Ibn ‘Uthaymeen (may Allaah have mercy on him) was asked: Can Allah be described as plotting and named as such?

He replied:

Allaah cannot be described as plotting except in a limited sense; He cannot be described as such in absolute terms. Allaah says (interpretation of the meaning):

“Did they then feel secure against the Plan of Allaah? None feels secure from the Plan of Allaah except the people who are the losers” [al-A’raaf 7:99]

This verse indicate that Allaah has a plan or plot, which was to confound them without them realizing it. This is akin to the hadeeth narrated by al-Bukhaari: “War is deceit.”

If it is asked: How can Allaah be described as plotting when this seems to be something  blameworthy? 

The answer is that plotting in the right circumstances may be something praiseworthy that points to the strength of the plotter, and that he is superior to his enemy. Hence Allaah cannot be described as plotting in absolute terms, and we cannot say “Allaah is a Plotter.” Rather this attribute is mentioned in a context where it is positive, such as the verses (interpretation of the meaning):

“they were plotting and Allaah too was plotting” [al-Anfaal 8:30]

“So they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not”[al-Naml 27:50]

And we cannot say in absolute terms that this cannot be ascribed to Allaah, rather in contexts where it is something positive it may be ascribed to Him, and in contexts where it is not something positive, it should not be ascribed to Him. So Allaah should not be called by a name which refers to this, so we cannot say that one of the names of Allaah is “the Plotter”. Plotting is one of His actions, because it has to do with the Will of Allaah.

Fataawa al-Shaykh Ibn ‘Uthaymeen, 1/170.

He was also asked: Can Allaah be described as betraying, or as deceiving, as in the verse (interpretation of the meaning):

“Verily, the hypocrites seek to deceive Allaah, but it is He Who deceives them”[al-Nisa’ 4:142]?

He replied:

With regard to betrayal, this is something that can never be ascribed to Allaah, because it is something shameful in all circumstances, and it is plotting at a time of trust, which is blameworthy. Allaah says (interpretation of the meaning):

“But if they intend to betray you (O Muhammad), they indeed betrayed Allaah before. So He gave (you) power over them. And Allaah is All-Knower, All-Wise” [al-Anfaal 8:71]

And He did not say: So He betrayed them.

With regard to deceiving, it is like plotting. It may be ascribed to Allaah when it is something positive, but it cannot be ascribed to Him in absolute terms. Allah says (interpretation of the meaning):

“Verily, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is He Who deceives them”[al-Nisa’ 4:142]

Fataawa al-Shaykh Ibn ‘Uthaymeen, 1/171

And Allaah knows best.

[Source: http://www.islam-qa.com/en/ref/39803]

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

The Biblical God As a Deceiver
By Bassam Zawadi

You won’t hear enough of Christian missionaries arguing that the Qur’an describes Allah as plotting and deceiving (refer above).
So I think it is only fair if we return them the favor and show how the God of the Bible is a deceiver, thus by the Christian missionary criteria the Biblical God is an immoral God and should not be worshipped.
We read in…
Jeremiah 4:10
Then I said, “Ah, Sovereign LORD, how completely you have deceived (nasha) this people and Jerusalem by saying, ‘You will have peace,’ when the sword is at our throats.”
The word for deceived here is nasha, which means…
1) to beguile, deceive
a) (Niphal) to be beguiled
b) (Hiphil) to beguile, deceive
c) (Qal) utterly (infinitive)
Source: http://www.blueletterbible.org/tmp_dir/words/5/1144094423-2544.html

John Gill states in his commentary…
surely thou hast greatly deceived this people and Jerusalem:
what the false prophets did, that God is said to do, because he suffered them to deceive the people; (John Gill, The New John Gill Exposition of the Entire Bible, Commentary on Jeremiah 4:10, Source)

The New Bible commentary states…
Jeremiah is not indifferent to the message, which he is called to preach. In v 10 a note is struck to which he will return in relation to himself (15:18). In his distress he accuses the Lord of having deceived the people, presumably by having allowed false prophets to convince them with a message of peace (cf. 6:13-14). The only reply is the Lord’s own confirmation that judgment is sure. (New Bible Commentary)

Even though it was really the false prophets who did the act of deception, the Bible is actually shifting the blame to God for actually allowing the false prophets to do the deception. This is what the “inspired” author Jeremiah said and this is what we got to accept. God deceived innocent people.

It seemed that people were so bothered with Jeremiah’s ascription of deception to God that they had to reword the sentence so that deception is ascribed to the false prophets instead.

Ah, Lord God! surely thou hast greatly deceived this people
The Targum paraphrases this verse thus: “And I said, Receive my supplication, O Lord God; for, behold, the false prophets deceive this people and the inhabitants of Jerusalem, saying, Ye shall have peace.” The prophet could not reconcile this devastation of the country with the promises already made; and he appears to ask the question, Hast thou not then deceived this people in saying there shall be peace, i.e., prosperity? (Adam Clarke, The Adam Clarke Commentary, Commentary on Jeremiah 4:10, Source)

We have it in…

1 Kings 22:20-22
20 And the LORD said, ‘Who will entice Ahab into attacking Ramoth Gilead and going to his death there?’
“One suggested this, and another that. 21 Finally, a spirit came forward, stood before the LORD and said, ‘I will entice him.’

22 ” ‘By what means?’ the LORD asked.
” ‘I will go out and be a lying spirit in the mouths of all his prophets,’ he said.
” ‘You will succeed in enticing him,’ said the LORD. ‘Go and do it.’
Here we see that the man said that he would resort to lying in order to entice Ahab and God supported the idea and told him to go ahead and do it!
I personally have no moral objections to this since I believe God could at times use means of deception in order to ensure the greater good and to use deception against evil. However, Christians don’t allow this when we talk about Allah deceiving evildoers in the Qur’an. These are double standards.

We even have it in…
Ezekiel 14:9-11
9 ” ‘And if the prophet is enticed to utter a prophecy, I the LORD have enticed that prophet, and I will stretch out my hand against him and destroy him from among my people Israel. 10 They will bear their guilt-the prophet will be as guilty as the one who consults him. 11 Then the people of Israel will no longer stray from me, nor will they defile themselves anymore with all their sins. They will be my people, and I will be their God, declares the Sovereign LORD.’ ”

God is punishing him for a crime that He enticed him to do in the first place? Isn’t that entrapment?

Another passage…
Isaiah 37:6-7
Isaiah said to them, “Tell your master, ‘This is what the LORD says: Do not be afraid of what you have heard-those words with which the underlings of the king of Assyria have blasphemed me. Listen! I am going to put a spirit in him so that when he hears a certain report, he will return to his own country, and there I will have him cut down with the sword.’ ”
God had that spirit spread a rumor so that the King of Assyria can to return to his homeland. In short, that spirit’s purpose was for deception.
Another example from the Bible…

Isaiah 19:14
The LORD has poured into them a spirit of dizziness; they make Egypt stagger in all that she does, as a drunkard staggers around in his vomit.

Here we see God deceiving people to the extent that they become absolutely foolish.
Even though I don’t believe the Gospels teach that Jesus taught he was God, however this example is for those who believe that Jesus is God. Jesus admits that he was speaking figuratively all this time…

John 16:25
25″Though I have been speaking figuratively (paroimia), a time is coming when I will no longer use this kind of language but will tell you plainly about my Father.

The word paroimia could mean…
1) a saying out of the usual course or deviating from the usual manner of speaking
a) a current or trite saying, a proverb
2) any dark saying which shadows forth some didactic truth
a) esp. a symbolic or figurative saying
b) speech or discourse in which a thing is illustrated by the use of similes and comparisons
c) an allegory
1) extended and elaborate metaphor
Source: http://www.blueletterbible.org/tmp_dir/words/3/1146511128-5176.html

Why wasn’t Jesus speaking in a normal and clear way all the time? Why did Jesus then go and say that he won’t ‘use this kind of language’?
Well, here we find out why…

Mark 4:10-12
10When he was alone, the Twelve and the others around him asked him about the parables. 11He told them, “The secret of the kingdom of God has been given to you. But to those on the outside everything is said in parables 12so that,” ‘they may be ever seeing but never perceiving, and ever hearing but never understanding; otherwise they might turn and be forgiven!’

So here we see that Jesus was deceiving certain people by speaking in parables so that they won’t (and God forbid!) REPENT AND BE FORGIVEN!

Also in…
2 Thessalonians 2:11
11For this reason God sends them a powerful delusion so that they will believe the lie
So God will delude people so that they can believe lies?

Now Christians would argue back and ask us Muslims to understand the context and reasons why God did such a thing. However, when we tell Christians to do the same thing when it comes to analyzing certain Qur’anic verses they don’t want to do it. So why should us Muslims?

[Source: http://www.call-to-monotheism.com/the_biblical_god_as_a_deceiver ]

Short link – Allah as the Best of Deceivers?: http://wp.me/p1dL2Q-fv